13 اگست 2014 - 10:47
دباؤ میں سعودی حکومت، شیخ النمر کی رہائی کے لئے مظاہرے اور احتجاج جاری

سعودی عرب کی حکومت نے شیعہ مذہبی رہنماء آیت اللہ شیخ باقر النمر کی سزائے موت پر عمل در آمد کو جاری مہینے کے آخرتک کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی جیل میں بند سعودی عرب کے مذہبی رہنما شیخ باقر النمر کی سزائے موت پر عمل در آمد کو روکنے کی عرضی پر سماعت ہوئی جس کے بعد اس معاملے کو مہینے کی آخری تاریخ تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

دوسری جانب متعدد مسلمان تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں نے بیان جاری کرکے سعودی عرب کے بادشاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ باقر النمر کی سزا منسوخ کی جائے جبکہ کئی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے سعودی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے شیخ باقر النمر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پیر کو سعودی عرب کے مشرقی علاقے العواميہ سٹی میں لوگوں نے شیخ باقر النمر سے اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ کیا۔ العواميہ کے الكرامه اسکوائر پر جمع ہونے والے مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں شیخ باقر النمر کی تصویریں اور ان کی حمایت میں نعروں والے پلے كارڈ اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین میں میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی جبکہ بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے عالم دین آیت اللہ شیخ جعفر السبحانی نے شیخ باقر النمر کو سنائی گئی سزا اور انہیں پھانسی دینے کے مطالبے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے حکمرانوں کو اس خام خیالی میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے کہ شیخ باقر النمر کو پھانسی دے دینے سے مخالفت کی آواز دب جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ شیخ باقر النمر کے خون کا ہر قطرہ سعودی حکومت کی بنیادوں کو ہلا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ سعودی حکومت کی مخالفت جاری رکھیں۔
دوسری جانب بحرین کی اپوزیشن پارٹی جمعیت الوفاق نے بھی سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ باقر النمر کو فوری رہا کرے۔ پارٹی نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پیچیدگی مزید بڑھ جائے گی اور امن و استحکام خطرے میں پڑ جائے گا۔ پارٹی نے کہا کہ اس مسئلے کو بات چیت سے حل کیا جانا چاہئے۔
جمعیت الوفاق نے کہا ہے کہ شیخ باقر النمر ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنے سیاسی، مذہبی اور سماجی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں لہذا انہیں گرفتار کرنے اور سزا دینے کے بجائے ان کے مطالبے پر غور کیا جانا چاہئے۔

.......

/169